یکساں نظام زندگی


انسان اپنی پیدائش سے لیکر اپنی موت تلک بے پناہ تغیرات لیکر پیدا ہوتا ہے. پیدائش کی جگہ اور کنبہ ہی بتا دیتا ہے کہ اس نے کن کن محرومیوں کیساتھ اس جہان فانی میں قدم رکھا ہے. امیر غریب اور اعلی و بد تر کی جنگ اس ے آنے سے پہلے چھڑی ہوئی ہے اس نے تو بس اس میدان جنگ میں ایک قدم رکھنا ہے اور لشکروں کے تلے دبتے جانا ہے یا پھر لشکروں کو اپنے قدموں تلے روندتے جںنں ہے.

آج میں نے ایک خبر سنی جس میں کسی اعلی پائے کے انگریزی سکول کی طالبہ سیدہ آمنہ جس کی عمر قریبا 12 سال ہے اس نے ایک کتاب لکھ رکھی ہے. برقی میڈیا پر اس کا ایک انٹر ویو سنا جس میں وہ ایک ننھی کلی بہت مثبت باتیں کر رہی تھی .
اس کی اس گفتگو سے بہت کچھ چھلک رہا تھا. سب نے سوچ بچار بھی کی ہو گی لیکن میرا خیال مجھے کسی اور جانب لیکر چلا گیا.
اس کے الفاظ کچھ یوں تھے. " ہم ہمیشہ کہتے ہیں آپ بچے ہو آپ نہیں کر سکو گے , آپ اس طرح نہ کرو لیکن مجھے نہیں روکا گیا اور میں نے کر دکھایا " . اس کے باتیں سننے اور دیکھنے میں بہت اچھے اور پر لطف تھی
کیوں کہ اس نے شائید ایک سلور سپون زندگی گزار رکھی ہے دنیائے مادیت کی ہر آسائش سے مالا مال زندگی.
اس کے راستے میں فکر روزگار , وسائل کی کمی , معاشرے میں اپنی حثیت اود اس طرح کے دیگر غریب خیال کبھی نہیں آئے ہوں گے جو اس کو رکنے اور سوچنے پر مجبور کر دیتے ہوں گے شائید اس نے اسی لئیے من چاہا کام کر ڈالا. بات کو خیال کیطرف پھیرا جائے اور اس سے کچھ نچوڑا جائے تو اس دنیا کی دہری راہ راوی سمجھ آتی ہے. اس زمانہ مادیت میں بہت سے انسان جن کے پاس بے پناہ مہارتیں موجود ہیں اپنے راستے کو چھوڑ کر ایک نیا راستہ چن لیتے ہیں جو کہ ان کی اصل نہیں ہوتا بلکہ زمانہ اس طرف جانے پر مجبور کر دیتا ہے. 

ایک ایسا بچہ جو صبح سویرے ماں باپ کے جھگڑے , بے روزگاری کے قصے , منگائی کے چرچے سنے اور پھر ایک ایسے سکول کی طرف رخ کرے جس کی حالت بھی اس کے گھر جیسی ہو , نہ چاردیواری , نہ.پینے کا پانی اور نہ کھانے کو ٹیفن میں روٹی کیسے کتاب لکھے گا??
کیا اس کا خیال اس طرف جائے گا کہ میں کوئی تخلیق کروں میں کوئی کتاب لکھوں میں کسی کی مدد کروں ? اس کی عمر تو تلاش روزگار اور فکر معاش میں نکل جائے گی وہ تو اسی سوچ میں ڈوبتا چلا جائے گا کہ شائید میں روٹی کو ترس جاوں , شائید ہمارا مستقبل ہمارے اجداد جیسا ہی رہے

پھر وہ راہ فرار استعمال کرے گا جس میں وہ اخلاقیات سے گرے گا , اقدار کو بھولے گا , قانوں کی پاسداری کی بیڑی اتار پھینکے گا کیوں کہ اسے تو کچھ اور چاہیے ہوگں. ہمیشہ زندگی ایک جیسی نہیں ہوا کرتی ہر کسی کے ٹیفن میں ڈان بریڈ نہیں ہوا کرتا اور نہ ہر کسی کو وہ لوازمات میسر ہوتی ہیں جو شائید زندگی کے لئیے ضروری ہوتی ہیں.
  کسی نے خوب کہا تھا کہ life is not a bed of roses. بہت سے انقلابی آئے , مفکر آئے , جنہوں نے برابری کا نظام لانا چاہا تاکہ سب کچھ متوازن ہو سکے لیکن کہیں نہ کہیں وہ بھی نا کام رہے. ماضی قریب میں پاکستان میں بھی یکساں نظام تعلیم رائج کروانے کا ڈھول بجایا گیا. اس ڈھول پر ناچنے والوں میں اکثریت کی تعداد ان کی تھی جن کے پاس لکھنے کو قلم اور پڑھنے کو کتاب نہ تھی وہ سمجھ رہے تھے کہ شائید ہماری سنی گئی ہے ہم بھی ایک جیسی تعلیم حاصل کریں گے اور اپنی مہارتیں ظاہر کروائیں گے ہمارا بھی مقام ہوگا ہم بھی دوڑ میں برابر دوڑیں گے.

لیکن پھر وہ ڈھول پھٹ گیا اور پھر ایک وہی الف انار رٹایا جانے لگا اور دوسری طرف تو کچھ اور ہی نظام تھا. جب تک ان محرمیوں کا ازالہ نہیں ہو سکے گا اس وقت تک اس طرف کی آمنہ اس طرف آ کر زینب بنتی رہیں گی ان کا نصیب کتابیں لیکھنا نہیں اخباروں کی سرخیاں ہو گا.

یہ کون کرے گا ٹھیک ? میں , آپ , یا کوئی خضر سوال باقی ہے

از قلم
آصف علی لک